lulupedia

دوسری جنگ عظیم

9254 words·21/9/2026·اردو
5

دوسری جنگ عظیم (World War II) ایک عالمی عسکری تنازع تھا جو 1939ء سے 1945ء تک دو متضاد اتحادوں کے درمیان لڑی گئی: ایک طرف نازی جرمنی، سلطنتِ جاپان اور مملکتِ اطالیہ کی قیادت میں محوری طاقتیں، اور دوسری طرف برطانیہ، سوویت اتحاد، ریاستہائے متحدہ امریکا اور جمہوریہ چین کی قیادت میں اتحادی طاقتیں۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے مہلک اور سب سے وسیع تر جنگ تھی جس میں تیس سے زائد ممالک کے دس کروڑ سے زیادہ افراد براہِ راست شامل تھے اور جس کے نتیجے میں ستر سے پچاسی ملین کے درمیان افراد ہلاک ہوئے، جن کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل تھی۔ اس جنگ نے عالمی سیاسی نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں یورپی نوآبادیاتی سلطنتیں تحلیل ہوئیں، ریاستہائے متحدہ امریکا اور سوویت اتحاد مسابقتی سپر پاورز کے طور پر ابھرے اور اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی۔

پس منظر

دوسری جنگ عظیم کے اسباب پہلی جنگ عظیم کے بعد حل طلب مسائل اور 1919ء کے معاہدہ ورسائی میں مضمر کشیدگیوں میں پوشیدہ تھے۔ اس معاہدے نے جرمنی پر بھاری جنگی معاوضے، علاقائی نقصانات اور عسکری پابندیاں عائد کیں، جنہوں نے جرمن عوام میں گہرا مزاج کساد پیدا کیا۔ 1929ء سے شروع ہونے والی عظیم معاشی کساد بازاری نے مزید یورپ بھر میں جمہوری حکومتوں کو غیر مستحکم کیا اور انتہا پسندانہ نظریات کے عروج کو راہ ہموار کی۔

جرمنی میں ایڈولف ہٹلر اور نیشنل سوشلسٹ (نازی) پارٹی 1933ء میں برسراقتدار آئی، جنہوں نے علاقائی توسیع، عسکریت پسندی اور آریائی برتری اور پرتشدد یہود مخاصمت پر مرکوز نسلی نظریے پر مشتمل ایک جارحانہ پروگرام کو فروغ دیا۔ اطالیہ میں بینیتو موسولینی کا فاشسٹ نظام، جو 1922ء میں قائم ہوا تھا، بحیرہ رومیہ اور افریقہ میں شاہانہ عزائم لے کر رواں تھا اور اس نے 1935ء میں ایتھوپیا پر حملہ کیا۔ جاپان میں ایک بڑھتی ہوئی عسکریت پسند حکومت نے مشرقی ایشیا پر غلبے کی کوشش کی، جس کا آغاز 1931ء میں منچوریا پر حملے سے ہوا اور جو جولائی 1937ء میں مارکو پولو برج واقعے کے بعد چین کے خلاف مکمل پیمانے کی جنگ میں بدل گیا۔

مغربی جمہوریتوں، یعنی برطانیہ اور فرانس نے بڑی حد تک مصالحتانہ پالیسی (Appeasement) پر عمل کیا اور ایک اور تباہ کن جنگ سے بچنے کے لیے کھینچے چھوڑنے کی کوشش کی۔ اس پالیسی کی عکاسی ستمبر 1938ء کے معاہدہ میونخ میں ہوئی، جس کے تحت جرمنی کو چیکوسلوواکیا کے سودیٹن لینڈ علاقے کے الحاق کی اجازت دی گئی۔ مارچ 1939ء میں جرمنی نے چیکوسلوواکیا کا باقی حصہ بھی قبضے میں لے لیا، جس سے واضح ہوا کہ ہٹلر کے عزائم کو مذاکرات کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔ 23 اگست 1939ء کو جرمنی اور سوویت اتحاد نے معاہدہ مولوتوف–ربن ٹروپ پر دستخط کیے، جو ایک عدم جارحیت کا معاہدہ تھا جس کے خفیہ پروٹوکول کے تحت مشرقی یورپ کو اثر و رسوخ کے حصوں میں تقسیم کیا گیا اور پولینڈ پر حملے کا راستہ صاف ہو گیا۔

جنگ کا آغاز اور محوری طاقتوں کی توسیع (1939ء تا 1941ء)

یورپ میں جنگ یکم ستمبر 1939ء کو جرمنی کے پولینڈ پر حملے سے شروع ہوئی، جس میں تیز رفتار مشترکہ اسلحہ کی حکمتِ عملی استعمال کی گئی جو بعد میں ”بلیز کرگ“ (برق رفتار جنگ) کے نام سے مشہور ہوئی۔ برطانیہ اور فرانس نے 3 ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ سوویت اتحاد نے 17 ستمبر کو مشرقی پولینڈ پر حملہ کیا اور اکتوبر کے آغاز تک پولینڈ تقسیم ہو چکا تھا۔ نومبر 1939ء میں سوویت اتحاد نے فن لینڈ پر حملہ کیا، جو سرمائی جنگ کہلائی۔

1940ء کی بہار میں جرمنی نے اپریل میں ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کیا اور 10 مئی کو فرانس اور نشیبی ممالک کے خلاف ایک وسیع کارروائی کا آغاز کیا۔ جرمن افواج نے آردن کے جنگلات سے ہوتے ہوئے فرانسیسی میجینو لائن کو نظرانداز کیا اور اتحادی فوجوں کو بیلجیئم میں گھیر لیا۔ برطانوی مہماتی فوج مئی اور جون کے آخر میں ڈنکرک سے نکالی گئی اور فرانس نے 22 جون 1940ء کو جنگ بندی پر دستخط کیے۔ اطالیہ نے 10 جون 1940ء کو برطانیہ اور فرانس کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ اس کے بعد جرمنی نے جنگِ برطانیہ چھیڑی، جو شاہی فضائیہ اور برطانوی شہروں کے خلاف ایک طویل فضائی مہم تھی۔ جرمن فضائیہ (لوفت وافے) کی فضایی برتری حاصل کرنے میں ناکامی ہٹلر کی پہلی بڑی ناکامی ثابت ہوئی اور برطانیہ پر حملے کے زیرِ التوا منصوبے کو غیر معیاد طور پر ملتوی کرنا پڑا۔

جون 1941ء میں جرمنی نے سوویت اتحاد کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آپریشن بارباروسا شروع کیا، جو تاریخ کا سب سے بڑا عسکری حملہ تھا اور جس میں تین ملین سے زائد محوری فوجیوں نے ایک وسیع محاذ پر حملہ کیا۔ جرمن افواج تیزی سے آگے بڑھیں، لینن گراڈ کا محاصرہ کیا اور ماسکو تک پہنچ گئیں، لیکن سوویت مزاحمت اور 1941–42ء کی سخت سردیوں نے انہیں روک دیا۔ مشرقی محاذ جنگ کا سب سے بڑا اور خونریز ترین مرکز بن گیا۔

بحرالکاہل میں جاپان 1937ء سے چین کے خلاف جنگ میں مصروف تھا اور نانجنگ قتلِ عام جی notorious مظالم کا مرتکب ہو رہا تھا۔ وسائل اور اسٹریٹجیکل برتری کے حصول کی جستجو میں جاپان نے 7 دسمبر 1941ء کو ہوائی کے بحری اڈے پرل ہاربر پر امریکی بحری بیڑے پر حملہ کیا اور بیک وقت جنوب مشرقی ایشیا میں برطانوی و ڈچ possessions پر بھی حملے کیے۔ ریاستہائے متحدہ اور برطانیہ نے جاپان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور چار دن بعد جرمنی اور اطالیہ نے ریاستہائے متحدہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا، جس سے یہ تنازع حقیقی معنوں میں ایک عالمی جنگ بن گیا۔

جنگ کے فیصلہ کن موڑ (1942ء تا 1943ء)

1942ء کا سال محوری توسیع کے عروج کا سال تھا؛ جاپانی افواج نے فلپائن، ملایا، سنگاپور، برما اور ڈچ ایسٹ انڈیز فتح کیں اور جرمن فوجیں قفقاز کے گہرائیوں میں اور دریائے وولگا کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ لیکن فیصلہ کن معرکوں کے ایک سلسلے نے محوری رفتار کا رخ پلٹ دیا۔

بحرالکاہل میں جون 1942ء کی جنگ مڈوے میں چار جاپانی طیارہ بردار بحری جہاز ڈوبے گئے، جس نے جاپان کی بحری ہوا بازی کو مستقل طور پر کمزور کر دیا اور اسٹریٹجیکل اقدام ریاستہائے متحدہ کے ہاتھ میں چلا گیا، جس نے اگست 1942ء سے گواڈال کینال سے جاپان کی جانب جزائر پر چھلانگ لگانے کی حکمتِ عملی (Island-hopping) کے تحت مہم کا آغاز کیا۔

مشرقی محاذ پر اگست 1942ء سے فروری 1943ء تک لڑی گئی جنگ سٹالن گراڈ یورپی جنگ کا فیصلہ کن معرکہ ثابت ہوئی۔ گھیرے میں آکر منقطع ہونے کے بعد جرمن چھٹی فوج نے کیتاہک نقصانات کے بعد فروری 1943ء میں ہتھیار ڈال دیے۔ جولائی 1943ء میں جنگ کرسک، جو تاریخ کا سب سے بڑا ٹینک کا معرکہ تھی، نے مشرق میں بڑے پیمانے پر حملوں کی جرمن صلاحیت کا خاتمہ کر دیا، جس کے بعد سوویت ریڈ آرمی مسلسل مغرب کی جانب بڑھتی رہی۔ شمالی افریقہ میں جنرل برنارڈ مانٹگمری کی قیادت میں برطانوی افواج نے نومبر 1942ء میں العلامین کی دوسری جنگ جیتی اور آپریشن ٹارچ کے تحت مراکش اور الجزائر میں اینگلو امریکی اولے نے محوری افواج کو اس حد تک تنگ کیا کہ مئی 1943ء میں وہ تیونس میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئیں۔

یورپ میں اتحادیوں کی فتح (1943ء تا 1945ء)

جولائی 1943ء میں اتحادی افواج نے صقلیہ پر اور پھر اطالوی سرزمین پر حملہ کیا۔ موسولینی کا تختہ الٹ دیا گیا اور اطالیہ نے ستمبر 1943ء میں ہتھیار ڈال دیے، البتہ جرمن افواج نے ملک پر قبضہ کر لیا اور وہاں لڑائی جنگ کے اختتام تک جاری رہی۔ اتحادی رہنماؤں—ونسٹن چرچل، فرینکلن ڈی روزویلٹ اور جوزف سٹالن—نے تہران (1943ء)، یalta (فروری 1945ء) اور پوٹسڈم (جولائی 1945ء) کی کانفرنسوں میں حکمتِ عملی کو مربوط کیا۔

6 جون 1944ء، جو ڈی-ڈے کے نام سے مشہور ہے، جنرل ڈوائٹ آئزن ہاور کی کمان میں اتحادی افواج نے آپریشن اوور لارڈ شروع کیا، جو تاریخ کا سب سے بڑا آبی حملہ تھا اور نورمنڈی کے ساحلوں پر اتر کر مغربی محاذ کھولا۔ بیک وقت سوویت آپریشن باگریشن نے جرمن فوجی گروپ ’سنٹر‘ کو تباہ کیا اور ریڈ آرمی کو مشرقی پروشیا اور پولینڈ کی سرحدوں تک پہنچا دیا۔ پیرس اگست 1944ء میں آزاد ہوا اور اتحادی فوجیں 1945ء کے آغاز تک جرمنی میں داخل ہو گئیں۔ دسمبر 1944ء میں آردن میں جرمنی کا آخری جوابی حملہ، جسے جنگ آف دی بلج کہا جاتا ہے، اتحادی پیش قدمی نہ روک سکا۔

سوویت افواج نے شہری جنگ کی شدید لڑائی کے بعد اپریل 1945ء کے آخر میں برلن پر قبضہ کیا۔ ہٹلر نے 30 اپریل 1945ء کو اپنے بنکر میں خودکشی کی اور جرمنی نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے دستاویز پر دستخط کیے جو 8 مئی 1945ء کو مؤثر ہوئے؛ یہ دن یورپ میں فتح کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

جاپان کی شکست (1945ء)

بحرالکاہل میں امریکی افواج نے 1944ء میں ماریانا جزائر فتح کیے، جس سے جاپان بی-29 اسٹریٹجیکل بمباروں کی رسائی میں آ گیا، اور جنگ لیٹے گلف میں فتح حاصل کی، جو جنگ کا سب سے بڑا بحری معرکہ تھی۔ ايوو جیما (فروری تا مارچ 1945ء) اور اوکیناوا (اپرییل تا جون 1945ء) کی خونریز لڑائیوں نے دونوں اطراف شدید جانی نقصان پہنچایا اور جاپانی سرزمین پر متصور حملے کی لاگت کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوئیں۔

جاپان کے پوٹسڈم اعلامیے میں دیے گئے الٹی میٹم کو مسترد کرنے کے بعد ریاستہائے متحدہ نے 6 اگست 1945ء کو ہیروشیما اور 9 اگست 1945ء کو ناگاساکی پر ایٹمی بم گرائے، جن سے بی مثال تباہی اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ 8 اگست کو سوویت اتحاد نے جاپان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور منچوریا پر حملہ کر دیا۔ شہنشاہ ہیروہیتو نے 15 اگست 1945ء کو جاپان کی ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور 2 ستمبر 1945ء کو ٹوکیو کی بندرگاہ میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس مسوری پر رسمی ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط ہوئے، جس کے ساتھ دوسری جنگ عظیم ختم ہو گئی۔

شرکائے جنگ اور اتحاد

محوری طاقتوں کے بڑے رکن جرمنی، جاپان اور اطالیہ تھے، جن کے ساتھ ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، سلوواکیہ اور کروشیا شامل تھے، نیز وچی فرانس جیسے تعاون کرنے والے ریاستیں بھی شامل تھیں۔ اطالیہ 1943ء کی ہتھیار ڈالنے کے بعد اتحادیوں کے صف میں شامل ہو گیا اور 1944ء میں رومانیہ اور بلغاریہ نے بھی ایسا ہی کیا۔

اہم اتحادی طاقتوں میں برطانیہ اور اس کی دولت مشترکہ (جن میں کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بھارت اور جنوبی افریقہ شامل تھے)، سوویت اتحاد (جون 1941ء کے بعد)، ریاستہائے متحدہ امریکا (دسمبر 1941ء کے بعد) اور چین شامل تھے، جو 1937ء سے جاپانی جارحیت کا مزاحمت کر رہا تھا۔ ان کے ساتھ زیرِ قبضہ اقوام کی جلاوطن حکومتیں، جن میں پولینڈ، فرانس، نیدر لینڈز اور ناروے شامل تھے، نیز یوگوسلاویہ اور یونان بھی شامل ہوئیں۔ یہ اتحاد، جسے جنوری 1942ء کے اعلامیہ اقوام متحدہ نے باقاعدہ شکل دی، برطانیہ، سوویت اتحاد اور ریاستہائے متحدہ کے عظیم اتحاد پر قائم تھا اور اعلیٰ سطحی کانفرنسوں اور مشترکہ عسکری کمانڈ ڈھانچوں کے ذریعے مربوط کیا جاتا تھا۔

جنگ کی خصوصیات

دوسری جنگ عظیم کو عام طور پر ’مکمل جنگ‘ (Total War) کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے، جس میں اقوام کے تمام وسائل—صنعتی، معاشی، سائنسی اور انسانی—جنگی کوشش کے لیے بسیے گئے اور اسٹریٹجیکل بمباری، ناکہ بندی، قبضے کی پالیسیوں اور نسل کشی نے جنگجوؤں اور شہریوں کے مابین امتیاز میں دھندلاہت پیدا کر دی۔ اس کی اہم خصوصیات درج ذیل تھیں:

  • صنعتی اور تکنیکی پیمانہ: جنگ نے ٹینکوں، طیاروں، بحری جہازوں اور اسلحے کی غیر مثال پیمانے پر بڑے پیمانے کی پیداوار کو فروغ دیا؛ صرف ریاستہائے متحدہ نے جنگ کے دوران تین لاکھ سے زائد طیارے تیار کیے۔
  • سائنسی جدت: جنگی تحقیق سے ریڈار، سونار، نیڑے فیز فیوز، بڑے پیمانے پر پینسلین، جیٹ انجن، بیلسٹک میزائل (جرمن وی-2)، رمز کشائی کے کمپیوٹر اور مین ہیٹن پروجیکٹ کے تحت تیار کردہ ایٹم بم وجود میں آئے۔
  • نظریاتی جنگ: اس تنازع کو فاشزم، اشتراکیت اور لبرل جمہوریت کے درمیان وجودی کشمکش کے طور پر پیش کیا گیا، جس نے متحاربین کو مکمل وابستگی کی جانب دھکیل دیا۔
  • عالمی محاذ: لڑائی یورپ، اٹلانٹک، شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ، مشرقی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، بحرالکاہل اور آرکٹک تک پھیلی، جس نے اسے آپریشنل دائرے میں پہلی حقیقی عالمی جنگ بنایا۔
  • خفیہ معلومات اور رمز کشائی: سگنلز انٹیلی جنس، بالخصوص بلیچلے پارک میں جرمن اینگما کوڈز اور جاپانی بحری کوڈز کی اتحادی کشائی نے جنگ کے رخ پر نمایاں اثر ڈالا۔

مظالم اور ہولوکاسٹ

دوسری جنگ عظیم غیر مثال پیمانے پر ارتکاب شدہ جرائم کے حوالے سے نمایاں ہے۔ سب سے بدنام زمانہ ہولوکاسٹ تھا، یعنی نازی جرمنی کی جانب سے تقریباً چھ ملین یہود کی منظم، ریاستی سرپرستی میں نسل کشی، جو آئن سٹز گروپن کی بڑے پیمانے پر فائرنگ اور آشوٹس–برکینو، ٹریبلنکا اور سوبیبور جیسے فنا کیمپوں کے ذریعے انجام دی گئی۔ نازیوں نے لاکھوں دوسرے متاثرین کو بھی قتل کیا، جن میں روم اور سنتی، معذور افراد، سلاوی شہری، سوویت جنگی قیدی، سیاسی مخالف اور ہم جنس پرست شامل تھے۔

جاپانی افواج نے وسیع پیمانے پر مظالم کا ارتکاب کیا، جن میں 1937–38ء کا نانجنگ قتلِ عام، جنگی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور جبری مشقت، ’کمفرٹ وومن‘ کی جنسی غلامی کا نظام اور یونٹ 731 کے حیاتیاتی جنگی تجربات شامل تھے۔ دونوں اطراف نے اسٹریٹجیکل بمباری کی مہمات چلائیں جن میں بڑی تعداد میں شہری مارے گئے، جیسا کہ دی بلٹز، ڈریسڈن اور ٹوکیو پر اتحادی بمباری اور جاپان پر ایٹمی حملوں میں واضح ہے۔ مشرقی پولینڈ اور بالٹک ریاستوں پر سوویت قبضہ اور 1940ء میں پولش افسران کا کاٹن قتلِ عام (کاتین ماساکر) بھی اس عہد کے بڑے پیمانے پر جبر کی مثالیں ہیں۔ ان جرائم کے پیمانے نے بعد از جنگ نورمبرگ اور ٹوکیو کے مقدمات چلانے پر آمادہ کیا، جنہوں نے بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی پاسداری کے لیے اتھارٹی قائم کیں اور بعد کے بین الاقوامی عدالتی ڈھانچوں کے لیے مثال قائم کی۔

اثرات اور اہمیت

دوسری جنگ عظیم کے نتیجات نے بیسویں صدی کے باقی حصے کی سمت متعین

Comments (0)

U

No comments yet. Be the first to comment!

You May Be Interested In

Related Articles