lulupedia

ڈارون

3520 words·21/9/2026·اردو
2

ڈارون (Darwin) عموماً چارلس رابرٹ ڈارون (12 فروری 1809ء – 19 اپریل 1882ء) کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو ایک انگریز ماہرِ فطرت، ماہرِ ارضیات اور ماہرِ حیاتیات تھے جن کے انقلابی علمی کام نے قدرتی انتخاب کے ذریعے ارتقا کا سائنسی نظریہ قائم کیا۔ ڈارون کو سائنس کی تاریخ کی سب سے زیادہ بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے افکار نے فطری دنیا کے بارے میں انسانی فہم اور اس میں انسان کے مقام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ ان کا نظریہ، جس کی جامع تقریر پہلی بار کتاب «آن دی اوریجن آف اسپیسیز» (1859ء) میں پیش کی گئی، اس بات کی تجویز کرتا ہے کہ زندگی کی تمام انواع طولِ زمان میں مشترکہ آبائی اجداد سے نکل کر وجود میں آئیں، اور اس عمل کو انھوں نے "قدرتی انتخاب" کہا۔ سائنسی اہمیت کے علاوہ ڈارون کا نام ان کے اعزاز میں بے شمار مقامات، اداروں، تصورات اور اکائیوں پر رکھا گیا ہے، جن میں سب سے نمایاں شمالی آسٹریلیا کا شہر ڈارون ہے۔

پس منظر اور ابتدائی زندگی

چارلس ڈارون کی پیدائش 12 فروری 1809ء کو انگلینڈ کے شہر شروزبری (شروپشائر) میں ایک متمول اور علمی حیثیت کے حامل خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد رابرٹ ڈارون ایک کامیاب معالج تھے، جبکہ والدہ سوزنہ ویج ووڈ مشہور ویج ووڈ پارچین سازی کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے دادا ایراسمس ڈارون خود بھی ایک ممتاز مفکر تھے جنھوں نے ارتقائی خیالات پر غور و فکر کیا تھا۔ ڈارون کا خاندان یونٹیرین عقیدے کا پیروکار تھا، اگرچہ ان کی تعمید چرچ آف انگلینڈ کے طریقے سے ہوئی تھی۔

جوانی میں ڈارون کو قدرتی تاریخ سے گہرا شغف تھا؛ وہ نمونے جمع کرتے اور جنگلی حیات کا مشاہدہ کرتے تھے۔ ان کے والد نے پہلے انھیں 1825ء تا 1827ء کے عرصے میں یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں طب کی تعلیم کے لیے بھیجا، لیکن ڈارون کو جراحی اور محاضرات سے اخلاط محسوس ہوئی اور انھوں نے طبی تعلیم کو نظر انداز کر کے قدرتی تاریخ پر توجہ دی، حیوانی نمونوں کی حِفاظت (ٹیکسائیڈرمی) کا فن سیکھا اور طلبہ کی انجمنوں میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ انگلیکن پادری بننے کی تیاری کے لیے کیمبرج کے کرائسٹ کالج میں منتقل ہوئے۔ کیمبرج میں انھوں نے 1831ء میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی اور ماہرِ نباتات جان سٹیونس ہنسلو اور ماہرِ ارضیات ایڈم سیج وک جیسے با اثر سائنسدانوں سے قریبی تعلقات استوار کیے، جن کی رہنمائی ان کے مستقبل کے کیریئر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

بیگل کا سفر

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہنسلو نے ڈارون کا نام کیپٹن رابرٹ فٹزروئے کی کمان میں سروے جہاز ایچ ایم ایس بیگل پر "جنٹل مین نیچرلسٹ" کے عہدے کے لیے تجویز کیا۔ 27 دسمبر 1831ء سے 2 اکتوبر 1836ء تک جاری رہنے والا یہ سفر ڈارون کی زندگی اور سائنسی نشو و نما کا سب سے فیصلہ کن تجربہ ثابت ہوا۔

قریباً پانچ سال پر محیط اس مہم میں جہاز نے جنوبی امریکا کے ساحلوں کا سروے کیا اور زمین کا چکر لگایا۔ ڈارون نے سفر کا بیشتر حصہ خشکی پر گزارا؛ انھوں نے حجری نمونے (فوسلز)، ارضیاتی نمونے، نباتات اور حیوانات جمع کیے اور اپنی نوٹ بکوں میں نہایت محتاط مشاہدات درج کیے۔ پیٹاگونیا میں منقرض ہو چکے دیو ہمال پستانیات کی دریافتوں، بحرالکاہل میں مرجانی جزائر کی تشکیل کے جائزے اور — سب سے زیادہ مشہور حیثیت سے — گلاپاگوس جزائر میں مکڑ چڑیوں (فنچز) اور دیگر پرندوں میں پایا جانے والے تغیرات کے مشاہدات نے انواع کے ثابت قدم رہنے کے عقیدے کے بارے میں شکوک کے بیج بو دیے۔ سفر کے دوران چارلس لائل کی کتاب «پرنسپلز آف جیالوجی» کے مطالعے نے انھیں زمین کی حیرت انگیز قدامت اور بتدریج ارضیاتی تبدیلی کا یقین دلایا، جس نے حیاتیاتی تبدیلی کے بتدریج عمل پر غور کرنے کے لیے مفہومی فریم ورک فراہم کیا۔

انگلینڈ واپسی پر ڈارون کو علمی حلقوں میں زبردست پذیرائی ملی۔ انھوں نے سفر کی روداد «جرنل اینڈ ریمارکس» (بعد میں «دی وائیج آف دی بیگل» کے نام سے معروف ہوئی) شائع کی اور اپنے وسیع مجموعوں کے تجزیے کے لیے ماہرین کا اہتمام کیا، جس نے ایک سنجیدہ ماہرِ فطرت کے طور پر ان کی ساکھ مستحکم کی۔

ارتقائی نظریے کی تشکیل

1838ء میں، سفر سے واپسی کے دو سال سے بھی کم عرصے بعد، ڈارون نے معاشیات دان تھامس ملٹھس کی کتاب «آن اِیسے آن دی پرنسپل آف پاپولیشن» پڑھی، جو بیان کرتی تھی کہ آبادیاں محدود وسائل کی حد تک بڑھتی ہیں۔ ڈارون نے سمجھا کہ فطرت میں وجود کی اسی جدوجہد کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند تغیرات رکھنے والے جانداروں کے بچ جانے اور افزائشِ نسل کے امکانات زیادہ ہوں گے اور وہ اپنے تغیرات نسل در نسل منتقل کریں گے۔ انھوں نے اس عمل کو "قدرتی انتخاب" کا نام دیا، جو جانوروں اور نباتات کے پالنے والوں کے مصنوعی انتخاب کی طرز پر وضع کیا گیا تھا۔

فوری اشاعت کے بجائے ڈارون نے اگلے دو دہائیوں تک شواہد جمع کرنے، دنیا بھر کے ماہرینِ فطرت سے خط و کتابت، نباتات و حیوانات پر تجربات کرنے اور اپنے نظریے کی تکمیل میں وقت صرف کیا۔ انھوں نے اپنے خیالات صرف چند قریبی دوستوں، بشمول جوزف ڈالٹن ہوکر اور چارلس لائل، کو بتائے، جنھوں نے انھیں اشاعت کا مشورہ دیا۔ ان کے تردیدِ اشاعت کی وجہ عموماً مذہبی و سماجی جھگڑوں کا خوف سمجھی جاتی ہے، کیونکہ ان کے نظریے کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو کوئی خاص تخلیق حاصل نہیں۔

1858ء میں ڈارون کو الف

Comments (0)

U

No comments yet. Be the first to comment!

You May Be Interested In

Related Articles